اشاعتیں

مئی, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے

تصویر
روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے  صیغہ ء راز میں رکھا ہوا اک نام مجھے   کہتے پھرتے ہو دل و جاں پہ دیا ہے قبضہ  لکھ کے دے سکتے ہو اس بات کا اسٹام مجھے؟    میں نہ ابدال، نہ عارف، نہ ولی اللہ ہوں  تیرے بارے میں مگر ہوتا ہے الہام مجھے     ایک لمحے میں کئی سالوں کی تصویر بنی  یاد آئی تھی کوئی حسرت ناکام مجھے  تیری یادیں بھی تری طرح کا رکھتی ہیں مزاج  رہنے دیتیں نہیں باہر یہ کوئی شام مجھے  میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں  خام کہتے ہیں کئی اور کئی خیام مجھے  نظموں اور غزلوں کی دنیا کا میں بندہ تھا عبید کھینچ لائی ہے کہاں گردشِ ایام مجھے  عبید ثاقب