یقیں بہ غیب کو اک ڈر میں دین کرتے ہیں New Urdu Ghazal by Ubaid Saqib
یقیں بہ غیب کو اک ڈر میں دین کرتے ہیں جو یہ نہ کرلیں انہیں آفرین کرتے ہیں خدا کے ہونے پہ جن کو شکوک ہیں وہ بھی کسی کے جھوٹ پہ پورا یقین کرتے ہیں ہمارے دل کو کیا فتح پہلے اس نے، پھر وہ حال کردیا جو فاتحین کرتے ہیں نہیں ہے تختِ سلیماں بھی اس کے قابل سو ہم اس کے پیروں کی جانب جبین کرتے ہیں کسی سے عشق، غزل گوئی اور دھنوں پر رقص کوئی کرے نہ کرے ہم یہ تین کرتے ہیں ہمارا دھیان تو بس اک صدا ہی کھینچتی ہے وگرنہ شور تو سب شائقین کرتے ہیں یہ محفلوں میں خموشی کو اوڑھنے والے اکیلے میں تہہ و بالا زمین کرتے ہیں بُرا بھلا تو میں دیکھوں گا عشق میں ثاقب حساب سود و زیاں کا ذہین کرتے ہیں ! عبید ثاقب