اشاعتیں

جنوری, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اسے پہلے تو دیکھا بےبسی سے

تصویر
اسے پہلے تو دیکھا بے بسی سے ہنسی پھوٹی پھر آنکھوں کی نمی سے پڑاؤ کوئی ان کے واسطے بھی جو اب اکتا رہے ہیں زندگی سے کسی کے نخرے ضائع جارہے ہیں کوئی سب لوٹتا ہے سادگی سے میں شبنم چن رہا تھا جنگلوں میں وہ پانی بھر رہی تھی اک ندی سے سڑک پر گاڑیاں ٹکرا نہ جائیں نکل کر آرہی ہے وہ گلی سے ہماری قدر کیا جانو گے تم لوگ پتا ہیرے کا پوچھو جوہری سے تو کیا تو مار ہی ڈالے گا ہم کو ؟ اگر مرتے ہیں تیری بے رخی سے ہماری راہ روکے گا زمانہ اندھیرا تو ڈرے گا روشنی سے طلب تھی زندگی کی تجھ کو ثاقب بتا کیا ہاتھ آیا زندگی سے ؟ عبید ثاقب

اپنے دشمن سے میں نے پیار کیا

تصویر
اپنے دشمن سے میں نے پیار کیا اور اس طرح پہلا وار کیا کس نے تسخیر کرلیا تجھ کو ؟ بپھرے دریا کو کس نے پار کیا؟ بےوفائی ترا چلن تھا اور یہ چلن ہم نے اختیار کیا ایک خانہ بدوش لڑکی نے شاہزادوں کو پہرہ دار کیا وہ چلی آئے کارخانے میں اور مشینوں کو بے قرار کیا ایک کھڑکی پہ پھول دیکھا اور آخری عشق پہلی بار کیا اُس کو رخصت کیا سٹیشن پر اور پھر اپنا انتظار کیا طوطا مینا کے ایک جوڑے نے تیرے شاعر کو اشکبار کیا عبید ثاقب

سونے لگتے تھے تو خوابوں میں پری آتی تھی

تصویر
سونے لگتے تھے تو خوابوں میں پَری آتی تھی آنکھ کُھل جاتی تو بس دربدری آتی تھی  اول اول تو مرے زخم بھی سِل جاتے تھے پہلے پہلے تو اسے بخیہ گری آتی تھی  اپنا نوحہ میں درختوں کو سناتا تھا اور چیخ جنگل سے بہت درد بھری آتی تھی ڈاکیا آتا ہے گاؤں میں تو یاد آتا ہے میرے خط میں بھی کبھی خوشخبری آتی تھی اب تو بے خوف چلی آتی ہے وہ پہلو میں پہلے پہلے تو وہ دل میں بھی ڈری آتی تھی  اک دفعہ حادثتاً دیکھ لیا تھا جس کو خواب در خواب وہی شکل دھری آتی تھی پیڑ پودے جو خوشی کے تھے جلے تھے لیکن  شاخ آنگن میں اداسی کی ہَری آتی تھی  روز وہ مجھ کو بناتا تھا ، مٹا دیتا تھا  ثاقب اس شخص کو جب کوزہ گری آتی تھی