سونے لگتے تھے تو خوابوں میں پری آتی تھی
سونے لگتے تھے تو خوابوں میں پَری آتی تھی
آنکھ کُھل جاتی تو بس دربدری آتی تھی
اول اول تو مرے زخم بھی سِل جاتے تھے
پہلے پہلے تو اسے بخیہ گری آتی تھی
اپنا نوحہ میں درختوں کو سناتا تھا اور
چیخ جنگل سے بہت درد بھری آتی تھی
ڈاکیا آتا ہے گاؤں میں تو یاد آتا ہے
میرے خط میں بھی کبھی خوشخبری آتی تھی
اب تو بے خوف چلی آتی ہے وہ پہلو میں
پہلے پہلے تو وہ دل میں بھی ڈری آتی تھی
اک دفعہ حادثتاً دیکھ لیا تھا جس کو خواب در خواب وہی شکل دھری آتی تھی
پیڑ پودے جو خوشی کے تھے جلے تھے لیکن
شاخ آنگن میں اداسی کی ہَری آتی تھی
روز وہ مجھ کو بناتا تھا ، مٹا دیتا تھا
ثاقب اس شخص کو جب کوزہ گری آتی تھی

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں