اشاعتیں

یقیں بہ غیب کو اک ڈر میں دین کرتے ہیں New Urdu Ghazal by Ubaid Saqib

تصویر
یقیں بہ غیب کو اک ڈر میں دین کرتے ہیں  جو یہ نہ کرلیں انہیں آفرین کرتے ہیں  خدا کے ہونے پہ جن کو شکوک ہیں وہ بھی  کسی کے جھوٹ پہ پورا یقین کرتے ہیں  ہمارے دل کو کیا فتح پہلے اس نے، پھر  وہ حال کردیا جو فاتحین کرتے ہیں  نہیں ہے تختِ سلیماں بھی اس کے قابل سو  ہم اس کے پیروں کی جانب جبین کرتے ہیں  کسی سے عشق، غزل گوئی اور دھنوں پر رقص کوئی کرے نہ کرے ہم یہ تین کرتے ہیں  ہمارا دھیان تو بس اک صدا ہی کھینچتی ہے وگرنہ شور تو سب شائقین کرتے ہیں یہ محفلوں میں خموشی کو اوڑھنے والے   اکیلے میں تہہ و بالا زمین کرتے ہیں  بُرا بھلا تو میں دیکھوں گا عشق میں ثاقب حساب سود و زیاں کا ذہین کرتے ہیں ! عبید ثاقب 

روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے

تصویر
روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے  صیغہ ء راز میں رکھا ہوا اک نام مجھے   کہتے پھرتے ہو دل و جاں پہ دیا ہے قبضہ  لکھ کے دے سکتے ہو اس بات کا اسٹام مجھے؟    میں نہ ابدال، نہ عارف، نہ ولی اللہ ہوں  تیرے بارے میں مگر ہوتا ہے الہام مجھے     ایک لمحے میں کئی سالوں کی تصویر بنی  یاد آئی تھی کوئی حسرت ناکام مجھے  تیری یادیں بھی تری طرح کا رکھتی ہیں مزاج  رہنے دیتیں نہیں باہر یہ کوئی شام مجھے  میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں  خام کہتے ہیں کئی اور کئی خیام مجھے  نظموں اور غزلوں کی دنیا کا میں بندہ تھا عبید کھینچ لائی ہے کہاں گردشِ ایام مجھے  عبید ثاقب 
تصویر
 Click on download button for notes of "Introduction to contract act 1872 Download

Patras Ke Mazameen by Patras Bukhari

تصویر
 Click on download button to download PDF Download

Khumar e Gandum by Ibn e Insha

تصویر
 Click on download button to download PDF Download

Himaqtyn' by Shafeeq Ur Rehman

تصویر
 Click on Download button to download PDF file:  Download

Khakam e Badhan by Mushtaq Ahmed Yousufi

تصویر
 Click on Download button to download PDF Download

Bajang E Aamad by Col Muhammad Khan

تصویر
Click on download button to download PDF Download

یونہی ضائع مرا ڈھونڈا ہوا حل جاتا تھا

یونہی ضائع مرا ڈھونڈا ہوا حل جاتا تھا مسئلہ اس کا ہر اک روز بدل جاتا تھا اُس کو لگتا تھا کہیں کوئی کمی ہے مجھ میں اور میں روز نئے سانچے میں ڈھل جاتا تھا اِن دنوں آدمی ہر بات پہ کرتا ہے سوال پہلے بس وعدہء فردا پہ ہی ٹل جاتا تھا رائج الوقت مرے کام نہیں آتا تھا اور متروک کسی ہاتھ سے چل جاتا تھا دشت کی سمت یہ اب جاتا ہے ورنہ پہلے شام ہو جاتی تو شہزادہ محل جاتا تھا خود وہ شبنم تھا مگر دیکھ کے اس کو ثاقب سینہ ء کوہ بھی جل جل کے پگھل جاتا تھا عبید ثاقب

Kai Chand Thy Sar e Aasman by Shams Ur Rahman Farooqi

 Click on Download button to download free pdf file of novel Kai Chand Thy Sar e Aasman by Shams Ur Rehman Farooqi Download