اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے
روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے صیغہ ء راز میں رکھا ہوا اک نام مجھے کہتے پھرتے ہو دل و جاں پہ دیا ہے قبضہ لکھ کے دے سکتے ہو اس بات کا اسٹام مجھے؟ میں نہ ابدال، نہ عارف، نہ ولی اللہ ہوں تیرے بارے میں مگر ہوتا ہے الہام مجھے ایک لمحے میں کئی سالوں کی تصویر بنی یاد آئی تھی کوئی حسرت ناکام مجھے تیری یادیں بھی تری طرح کا رکھتی ہیں مزاج رہنے دیتیں نہیں باہر یہ کوئی شام مجھے میں ادھورا بھی نہیں اور مکمل بھی نہیں خام کہتے ہیں کئی اور کئی خیام مجھے نظموں اور غزلوں کی دنیا کا میں بندہ تھا عبید کھینچ لائی ہے کہاں گردشِ ایام مجھے عبید ثاقب

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں