یونہی ضائع مرا ڈھونڈا ہوا حل جاتا تھا
یونہی ضائع مرا ڈھونڈا ہوا حل جاتا تھا
مسئلہ اس کا ہر اک روز بدل جاتا تھا
اُس کو لگتا تھا کہیں کوئی کمی ہے مجھ میں
اور میں روز نئے سانچے میں ڈھل جاتا تھا
اِن دنوں آدمی ہر بات پہ کرتا ہے سوال
پہلے بس وعدہء فردا پہ ہی ٹل جاتا تھا
رائج الوقت مرے کام نہیں آتا تھا
اور متروک کسی ہاتھ سے چل جاتا تھا
دشت کی سمت یہ اب جاتا ہے ورنہ پہلے
شام ہو جاتی تو شہزادہ محل جاتا تھا
خود وہ شبنم تھا مگر دیکھ کے اس کو ثاقب
سینہ ء کوہ بھی جل جل کے پگھل جاتا تھا
عبید ثاقب
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں