اسے پہلے تو دیکھا بےبسی سے

اسے پہلے تو دیکھا بے بسی سے
ہنسی پھوٹی پھر آنکھوں کی نمی سے

پڑاؤ کوئی ان کے واسطے بھی
جو اب اکتا رہے ہیں زندگی سے

کسی کے نخرے ضائع جارہے ہیں
کوئی سب لوٹتا ہے سادگی سے

میں شبنم چن رہا تھا جنگلوں میں
وہ پانی بھر رہی تھی اک ندی سے

سڑک پر گاڑیاں ٹکرا نہ جائیں
نکل کر آرہی ہے وہ گلی سے

ہماری قدر کیا جانو گے تم لوگ
پتا ہیرے کا پوچھو جوہری سے

تو کیا تو مار ہی ڈالے گا ہم کو ؟
اگر مرتے ہیں تیری بے رخی سے

ہماری راہ روکے گا زمانہ
اندھیرا تو ڈرے گا روشنی سے

طلب تھی زندگی کی تجھ کو ثاقب
بتا کیا ہاتھ آیا زندگی سے ؟

عبید ثاقب




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

روز بےچین کیے دیتا ہے ہر گام مجھے