اپنے دشمن سے میں نے پیار کیا
اپنے دشمن سے میں نے پیار کیا
اور اس طرح پہلا وار کیا
کس نے تسخیر کرلیا تجھ کو ؟
بپھرے دریا کو کس نے پار کیا؟
بےوفائی ترا چلن تھا اور
یہ چلن ہم نے اختیار کیا
ایک خانہ بدوش لڑکی نے
شاہزادوں کو پہرہ دار کیا
وہ چلی آئے کارخانے میں
اور مشینوں کو بے قرار کیا
ایک کھڑکی پہ پھول دیکھا اور
آخری عشق پہلی بار کیا
اُس کو رخصت کیا سٹیشن پر
اور پھر اپنا انتظار کیا
طوطا مینا کے ایک جوڑے نے
تیرے شاعر کو اشکبار کیا
عبید ثاقب

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں