پہلے جانے پہ یہ کہتے تھے کہاں جاتا ہے ؟
پہلے جانے پہ یہ کہتے تھے کہاں جاتا ہے ؟
اب یہ کہتے ہیں کہ جانے دو جہاں جاتا ہے
واپسی عشق سے ہوتی ہے بڑھاپا لیکر
پہلے پہلے کوئی کڑیل سا جواں جاتا ہے
میں تری سمت یوں آتا ہوں نمازی جیسے
کسی مسجد کی طرف بعدِ اذاں جاتا ہے
پچھلے جنموں میں کسی دشت کی ناگن ہوگی
اس محبت کا تو صحرا کو نشاں جاتا ہے
آگہی ریل کی پٹری ہے یہاں پر ثاقب
مرنے کو صاحبِِ تعلیم جہاں جاتا ہے
عبید ثاقب

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں